khazana nikalne ka tarika

دفن کیا ہوا خزانہ

 آجکل خزانوں کی کھوج بہت زیادہ ہو گئی ہے۔کیونکہ دولت کی ہوس بڑھ گئی ہے۔یہ سچ ہے کہ کہ پرانے زمانے میں بینک نہیں ہوا کرتے تھے اس کی وجہ سے بادشاہ اور دولتمند لوگ دشمنوں اور پڑوسی ملکوں کےلوگوں کے حملوں کےخوف سے اپنے خزانوں کو زمین میں چھپا یا کرتےتھے۔اگریہ خزانے سات آٹھ سال تک نہ نکالے جائیں توان میں سے بعض چیزوں پر جنات کا قبضہ ہو جا تا تھا
خصوصاً اگراس میں کچھ ایسی چیز نہ ہو تیں جس میں اللّٰہ کریم کا نام یا قرآنی آیات وغیرہ نہ ہو تی تھیں ۔اور یہ کوئی ضروری بھی نہیں کہ لامحالہ ان خزانہ پر جنات کا
قبضہ ہوہی جائے ۔اور جن چیزوں کو جنات اپنے قبضے میں لیتے وہ اس زمین کے مختلف حصوں میں گھما پھراکر لوگوں کو سبزباغ دکھایا کرتے۔
شیطانی جنات نوجوان لڑکوں اور نوجوان لڑکیوں کے اوپر ان کے جسموں پرسوار ہوکریا ان کے خوابوں میں آکر انہیں سونااورہیرے جواہرات دکھاکر آس دلاتے،یہ خدائی عطیہ ہے جوتمہاری مقصدرمیں رکھاگیاہے اور اس میں تمہارا نام لکھاگیا۔یہ بالکل بے بنیاد اورلغویات ہے انسانوں کو گمراہ کر
نے کا ذریعہ جس کے ذریعہ انسان کا ایمان اور اللّٰہ کریم پراس کا توکل متاثر ہوجاتا ہے۔ خوش قسمتی سے بعض واقعات ایسے رونما ہو جاتےہیں کہ لوگ جب اپنے گھروں کی بنیادیں کھودتے ہیں تو انہیں اچانک خزانہ مل جا تا ہے جن پرجنات کا قبضہ نہیں ہوتا۔ بہت سے جادوگروں نے اس خزانے کا جھوٹا جھانسہ دے کر لوگوں سے بڑی رقم وصول کی ہے۔اس سکسلہ میں بہت سے علاقوں میں محکمہ پولیس کے اندر بہت سے اس طرح کے معاملات درج ہے کئےگئے ہیں ۔بہرحال لوگوں کو چائہے کہ ایسی گمراہ کن چیزوں کے چکر میں نہ پڑیں مگر یہ سچ ہے کہ بہت سارے خزانے زمین کے مختلف حصوں میں دفن ہیں ۔جس کے کوئی حقدار نہیں ہیں ۔ جن خزانوں میں جنات کا قبضہ ہے
وہ خزانے (میٹل ڈٹیکڑ) دھاتوں کو تلاش کرنے کے آلہ کے ذریعہ تلاش نہیں کیاجاسکتا ۔جنات کے ورغلا نے پر خزانے کی تلاش میں جانا گویا اپنی موت کو دعوت دینا ہے۔

Post a Comment

0 Comments